کولکا تہ، 3 ؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )مغربی بنگال کے سدور جزائر سے جس لڑکی کی اسمگلنگ کی گئی تھی وہ آج بین الاقوامی حقوق اطفال کی سرگرم کارکن ہے اور اس کو اقوام متحدہ میں خطاب کرنے کے لیے دو بار مدعو کیا جا چکا ہے۔انویارا خاتون اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون، بل گیٹس اور میلنڈا گیٹس سے ملاقات کر چکی ہے اور وہ شمالی 24پرگنہ ضلع میں واقع سند یش کھالی گاؤں کی ہیرو ہے۔مذکورہ لڑکی کی غریبی کی وجہ سے ایک گھریلو خادمہ کے طور پر اسمگلنگ کی گئی تھی۔اس نے میڈیا سے کہاکہ اپنے گاؤں کی کہانیاں بین الاقوامی سامعین کو بتانا اور پوری دنیا کی کہانیاں سن کر میں ایک کارکن کے طور پر زیادہ مضبوط بن گئی ہوں۔بین الاقوامی این جی او ’سیو دی چلڈرن‘سے متاثرہ نوجوان لیڈر بچوں کے 80گروپوں کی قیادت کر رہی ہے۔ہر گروپ میں 10سے 20رکن ہیں جو بچوں کی شادی، اسمگلنگ، بچہ مزدوری اور صحت اور تعلیم سے جڑے دیگر مسائل کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔انویارا نے کہا کہ جب اس نے اپنی آواز اٹھانی شروع کی تو گاؤں والوں نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔نوجوان کارکن نے کہاکہ مجھے کافی تنقید وں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن چیزیں اب بدل گئی ہیں، لوگ اب مجھے سنے لگے ہیں۔اس نے گزشتہ سال اقوام متحدہ میں منعقد پائیدار ترقی ہدف سربراہی کانفرنس اور اس سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہندوستانی بچوں کی نمائندگی کی۔